Pages

Subscribe:

Friday, March 30, 2012

شمع اور پروانہ

شمع اور پروانہ

شمع پروانے سے۔۔
کیا تکتے ہو؟
تم کو
مجھ میں کیا ہے؟
آگ۔۔ جو جلا دے
تم جلنا چاہتے ہو؟
صرف تمہاری آنچ سے
اس کی وجہ؟
کہوں گا تو تم مانو گی نہیں
تم کہہ کر تو دیکھو؟
میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس قدر کہ وصل کے ایک لمحے کے لیے میں اپنی حیات لکھ دوں۔
یہ کیسی محبت ہے؟ تم جانتے ہو میری قربت تمہیں خاک کر ڈالے گی، پھر بھی؟
ہاں پھر بھی۔۔
اس کی وجہ؟
محبت میں وجوہات کب ہوتی ہیں بھلا؟
؟بے وجہ کب کچھ ہوتاہے۔۔
کیا وجہ ہوئی کہ خدا اپنے محبوب کے انتقال سے پہلے ہی اسے اپنے روبرو لے آیا، اپنے قریب۔۔
یہ باتیں میں کیا سمجھوں؟
تمہیں محبت جو نہیں۔۔
شاید تم ٹھیک کہتے ہو، میں تمہارے لیے اپنے دل میں کوئی خاص جذبہ محسوس نہیں کرتی۔
جانتا ہوں، لیکن پھر بھی تم سے التجا ہے کہ میری محبت کو اتنا خراج دو کہ ایک بار تمہیں چُھو سکوں
چاہے اس کے لیے تمہیں اپنی جان گنوانی پڑے؟
ہاں۔۔ چاہے اس کے بدلے میری جان ہی کیوں نہ جائے۔۔

اور پھر پروانہ اپنی شمع کی قربت یہ کہتا ہوا اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا
اپنی لو میں تو سبھی جلتے ہیں 
شمع کی لو میں  جلا یہ پروانہ

اور شمع۔۔۔

شمع، جس کو پروانے کے لیے کوئی جذبہ محسوس نہ ہوا، وہ پروانے کی اس دیوانگی پر آنسو بہا رہی ہے۔۔ وہ پروانہ جو اب اس مادی دنیا میں نہیں رہا، جو اب کبھی اسے دیکھ بھی نہ پائے گا، اس کے متعلق کچھ جان بھی نہ پائے گا۔۔۔ اس پروانے کے لیے وہ نہیں جانتی کہ کیوں۔۔ کب اور کیسے۔۔۔

لیکن اب ۔۔ وہ پروانے کی محبت میں قطرہ قطرہ جل رہی ہے۔۔ ۔ ۔ پگھل رہی ہے۔۔۔ مر رہی ہے۔ 
*****
 
__________________

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


4 comments:

  1. بہت بہت اچھا لکھا ہے

    ReplyDelete